منّتوصدقہ
نذرمانناشرعاًکیساہےاوراسکیتعریفکیاہے؟
سوال:۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ نذر مت مانا کرو، اس لئے کہ نذر تقدیری اُمور میں کچھ بھی نفع بخش نہیں ہے، بس اس سے اتنا ہوتا ہے کہ بخیل کا مال نکل جاتا ہے۔ حوالہ صحیح مسلم، کتاب النذر، اور صحیح بخاری، کتاب الایمان والنذر، ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اس قسم کی نذر لایعنی اور ممنوع ہے۔ براہِ کرم اِسلامی صفحے کے آئندہ جمعہ کے ایڈیشن میں صحیح جواب شائع کرادیں، اور اگر میرے سمجھنے میں کچھ غلطی ہے، تو میری اِصلاح فرمائیں۔
جواب:۔
نذر کے معنی ہیں کسی ایسی عبادت کو اپنے ذمہ لازم کرلینا جو اس پر لازم نہیں تھی۔ اور ’’اپنے ذمہ کرلینا‘‘ زبان کا فعل ہے، محض دِل میں خیال کرنے سے وہ چیز اس کے ذمہ لازم نہیں ہوتی، جبکہ زبان سے الفاظ ادا نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کی نیت کرلینے سے نماز شروع نہیں ہوتی، جب تک تکبیرِ تحریمہ نہ کہے۔ حج وعمرہ کی نیت کرنے سے حج وعمرہ شروع نہیں ہوتے، جب تک کہ تلبیہ کے الفاظ نہ کہے۔ طلاق کا خیال دِل میں آنے سے طلاق نہیں ہوتی جب تک کہ طلاق کے الفاظ زبان سے نہ کہے۔ اور نکاح کی نیت کرنے سے نکاح نہیں ہوتا، جب تک کہ ایجاب وقبول کے الفاظ زبان سے ادا نہ کئے جائیں۔ اسی طرح نذر کا خیال دِل میں آنے سے نذر بھی نہیں ہوتی، جب تک کہ نذر کے الفاظ زبان سے نہ کہے جائیں۔ چنانچہ علامہ شامیؒ نے کتاب الصوم میں نقل کیا ہے کہ نذر زبان کا عمل ہے۔(۱)
آپ نے قرآن پاک کی جو آیت نقل کی، اس میں فرمایا گیا کہ: ’’جو تم نذر مانو‘‘ میں بتا چکا ہوں کہ نذر کا ماننا زبان سے ہوتا ہے، اس لئے یہ آیت اس مسئلے کے خلاف نہیں۔ آپ نے جو حدیث نقل کی ہے کہ: ’’اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘ اس میں عمل اور نیت کو الگ الگ ذِکر کیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نیت کرنے سے عمل نہیں ہوتا، بلکہ عمل میں نیت کا صحیح ہونا شرطِ قبولیت ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی رُو سے بھی صرف نیت اور خیال سے نذر نہیں ہوگی، جب تک کہ زبان کا عمل نہ پایا جائے۔
دُوسری حدیث میں بھی دِلوں اور عملوں کو الگ الگ ذِکر کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف دِل کے خیال کا نام عمل نہیں، البتہ عمل کے لئے دِل کی نیت کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ اور آپ نے جو حدیث نقل کی ہے کہ: ’’نذر مت مانا کرو‘‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ مگر آپ نے اس سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: ’’اس قسم کی نذر لایعنی اور ممنوع ہے‘‘ یہ نتیجہ غلط ہے۔ کیونکہ اگر حدیث شریف کا یہی مطلب ہوتا کہ نذر لایعنی اور ممنوع ہے تو شریعت میں نذر کے پورا کرنے کا حکم نہ دیا جاتا، حالانکہ تمام اکابرِ اُمت متفق ہیں کہ عبادتِ مقصودہ کی نذر صحیح ہے، اور اس کا پورا کرنا لازم ہے۔
حدیث میں نذر سے جو ممانعت کی گئی ہے، علماء نے اس کی متعدّد توجیہات کی ہیں۔ ایک یہ کہ بعض جاہل یہ سمجھتے ہیں کہ نذر مان لینے سے وہ کام ضرور ہوجاتا ہے۔ حدیث میں اس خیال کی تردید کے لئے فرمایا گیا ہے کہ نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر نہیں ٹلتی۔ دوم یہ کہ بندے کا یہ کہنا کہ اگر میرے مریض کو شفا ہوجائے تو میں اتنے روزے رکھوں گا۔ یا اتنا مال صدقہ کروں گا۔ ظاہری صورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودے بازی ہے، اور یہ عبدیت کی شان نہیں۔(۲)
- (۱) واجب بالنذر بلسانہ قولہ بلسانہ فلا یکفی لِایجابہ النیۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۴۱، باب الْإعتکاف)۔
- (۲) لأن غیر البخیل یعطی باختیارہ بلا واسطۃ النذور قال القاضی عادۃ الناس تعلیق النذور علٰی حصول المنافع ودفع المضار فنھی عنہ فإن ذٰلک فعل البخلاء إذا السخی إذا أراد أن یتقرّب إلی اللہ تعالٰی استعجل فیہ وأتی بہ فی الحال والبخیل لَا تطاوعہ نفسہ بإخراج شیء من یدہ إلّا فی مقابلۃ عوض یستوفی أوّلہ فیلتزمہ فی مقابلتہ ۔۔۔ قال ویحتمل أن یکون سببہ کونہ یأتی بالقربۃ التی التزمھا فی نذرہ علٰی صورۃ المعارضۃ للأمر الذی طلبہ فینقص أجرہ وشأن العبادۃ أن تکون متمحضًا ﷲ تعالٰی اھـ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۳ ص:۵۶۳ طبع بمبئی)۔

