منّتوصدقہ
نابالغیکیحالتمیںروزےرکھنےکیمنّتمانیتویہبلوغتکےبعدبھیواجبنہیں
سوال:۔
مجھے پندرہ سال کی عمر میں روزے فرض ہوئے، میں نے تیرہ سال کی عمر میں جب مجھ پر روزے فرض نہیں ہوئے تھے، تو منّت مانی تھی کہ میری بلی کا بچہ جو گم ہوگیا تھا واپس آجائے تو دو روزے رکھوں گی۔ یہ منّت پوری ہوئی، مگر روزہ میں نے نہیں رکھا اور کہا کہ جو رکھے ہیں انہیں میں سے ہوجائے گا، اگلے رمضان میں بھی روزے فرض نہیں ہوئے، لیکن میں نے کئی روزے رکھے، لیکن روزے رکھتے ہوئے منّت کی نیت نہیں کی، اب پوچھنا یہ ہے کہ منّت کے روزے ادا ہوگئے یا دوبارہ رکھنے ہوں گے؟
جواب:۔
یہ منّت آپ کے ذمہ لازم نہیں۔(۱)
- (۱) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتّی یستیقظ، وعن الصبیّ حتّی یبلغ، وعن المعتوہ حتّی یعقل۔ رواہ الترمذی وأبوداوٗد ورواہ الدارمی عن عائشۃ وابن ماجۃ عنھما۔ (مشکٰوۃ ص:۲۸۴، باب الخلع والطلاق، الفصل الثانی)۔

