بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

صرف‌خیال‌آنے‌سے‌منّت‌لازم‌نہیں‌ہوتی

سوال:۔

محترم! میری ایک دوست ہے غیرشادی شدہ، اس کی پھوپھی کی شادی کو کافی عرصہ گزر گیا، وہ ابھی تک اولاد جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ ایک دن میری دوست کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ پھوپھی یہ کہیں کہ میرے ہاں (پھوپھی کے ہاں) اولاد ہوگئی تو میں بچوں کا سامان کسی کو بھی دے دوں گی۔ اس کے بعد اس کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ منّت تم نے اپنے لئے مانی ہے۔ لیکن یہ خیال آتے ہی میری دوست نے خدا سے توبہ کرلی ہے، اور اس کا ذہن اس ساری چیز کو قبول نہیں کرتا۔ میری دوست آج کل بہت پریشان ہے۔ مہربانی فرماکر مولانا صاحب! آپ یہ فرمائیں کہ اس طرح صرف ذہن میں خیال آنے سے منّت ہوجاتی ہے کہ نہیں؟ جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ صرف خیال آنے سے منّت نہیں ہوتی۔

جواب:۔

صرف کسی بات کا خیال آنے سے منّت نہیں ہوتی، بلکہ زبان سے ادا کرنے کے ساتھ ہوتی ہے۔(۱)

  1. (۱) واجب بالنذر بلسانہ قولہ بلسانہ فلا یکفی لِایجابہ النیۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۴۱، باب الْإعتکاف)۔