بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

منّت‌کی‌شرائط

سوال:۔

ہمارے مذہب میں منّت ماننا کیسا ہے؟ اور اس کے الفاظ کیا ہونے چاہئیں؟ اور کن کن صورتوں میں منّت ماننی چاہئے؟

جواب:۔

شرعاً منّت ماننا جائز ہے، مگر منّت ماننے کی چند شرطیں ہیں، اوّل یہ کہ منّت اللہ تعالیٰ کے نام کی مانی جائے، غیراللہ کے نام کی منّت جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے۔(۱) دوم یہ کہ منّت صرف عبادت کے کام کی صحیح ہے، جو کام عبادت نہیں اس کی منّت بھی صحیح نہیں۔(۲) سوم یہ کہ عبادت بھی ایسی ہو کہ اس طرح کی عبادت کبھی فرض یا واجب ہوتی ہے، جیسے نماز، روزہ، حج، قربانی وغیرہ۔ ایسی عبادت کہ اس کی جنس کبھی فرض یا واجب نہیں، اس کی منّت بھی صحیح نہیں، چنانچہ قرآن خوانی کی منّت مانی ہو تو وہ لازم نہیں ہوتی۔(۳)

  1. (۱) (قولہ باطل وحرام) بوجوہ، منھا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لَا تکون لمخلوق۔ (شامی ج:۲ ص:۴۳۹، مطلب فی النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام ۔۔۔إلخ)۔
  2. (۲) وفی البدائع: ومن شروطہ أن یکون قربۃ مقصودۃ فلا یصح النذر بعیادۃ المریض والوضوء والْإغتسال ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان)۔
  3. (۳) وکان من جنسہ واجب أی فرض ۔۔۔ کصوم وصلاۃ وصدقۃ ۔۔۔ ولم یلزم الناذر ما لیس من جنسہ فرض ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان)۔