منّتوصدقہ
نذراورمنّتکیتعریف
سوال:۔
نذر اور منّت کی تعریف کیا ہے؟ اور ان میں اگر کوئی فرق ہو تو واضح فرمائیں۔
جواب:۔
نذر کے معنی ہیں کسی شرط پر کوئی عبادت اپنے ذمہ لے لینا،(۱) مثلاً: اگر فلاں کام ہوجائے تو میں اتنے نفل پڑھوں گا، اتنے روزے رکھوں گا، بیت اللہ کا حج کروں گا، یا اتنی رقم فقراء کو دوں گا وغیرہ، اسی کو منّت بھی کہا جاتا ہے۔
منّت اور نذر کا گوشت نہ خود استعمال کرسکتا ہے، نہ کسی غنی کو دے سکتا ہے، بلکہ اس کا گوشت فقراء پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔(۲)
إذ مصرف النذر الفقراء ۔۔۔ ولَا یجوز أن یصرف ذٰلک لغنی غیر محتاج ولَا لشریف منصب لأنہ لَا یحل لہ الأخذ ما لم یکن محتاجًا فقیرًا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۳۲۱، قبیل باب الْإعتکاف)۔
- (۱) ولو جعل علیہ حجۃ أو عمرۃ أو صومًا أو صلاۃ أو صدقۃ أو ما أشبہ ذٰلک مما ھو طاعۃ إن فعل کذا ففعل لزمہ ذٰلک الذی جعلہ علٰی نفسہ۔ (عالمگیری ج:۲ ص: ۶۵، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینا وما لَا یکون یمینا)۔
- (۲) ولَا یجوز لھم النذور والکفارات ولَا صدقۃ الفطر ولَا جزاء الصید لأنھا صدقۃ واجبۃ ۔۔۔إلخ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۳۳، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز رفع الصدقۃ إلیہ ومن لَا یجوز)۔

