بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقۂ‌فطر

صدقۂ‌فطر‌غیرمسلم‌کو‌دینا‌جائز‌ہے،‌مسئلے‌کی‌تصحیح‌و‌تحقیق

سوال:۔

جناب مولانا صاحب! ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ ۲۱؍اگست جمعہ کے ایڈیشن میں آپ سے ایک مسئلے میں خطا ہوئی ہے، کیونکہ آپ کے توسط سے عوام کو دینی مسائل سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے، اور میں ان مسائل کی تصحیح کے لئے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں تاکہ عوام کو صحیح خبر حاصل ہو، اور آپ سے گزارش ہے کہ مسائل کو تحقیقِ دقیق کے بعد زیرِ قلم فرمایا کریں، ذمہ داری اور فرض پورا کریں، جس مسئلے میں خطا ہوئی ہے، وہ زیر ملاحظہ ہو:

’’صدقۂ فطر غیرمسلم کو دینا صحیح ہے‘‘ میں اوّلاً اس مسئلے کے لئے بہشتی زیور کا حوالہ درج کئے دیتا ہوں۔ ’’زکوٰۃ کن کو دینا جائز ہے‘‘ کے بیان میں حصہ سوم بہشتی زیور مسئلہ نمبر۸ یوں ہے: ’’مسئلہ: زکوٰۃ کا پیسہ کافر کو دینا دُرست نہیں ہے، مسلمان ہی کو دیوے، زکوٰۃ اور عشر، صدقۂ فطر اور نذر و کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا دُرست ہے۔‘‘

ان کتب نے جو میرے پاس موجود ہیں، اسی قول کو مختار کہا ہے، درمختار، بہارِ شریعت، قانونِ شریعت، عمدۃ الفقہ، شامی۔

جواب:۔

جناب کی تصحیح کا بہت بہت شکریہ، اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائیں۔ میں آنجناب سے بھی اور دیگر اہلِ علم سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس ناکارہ کی تحریر میں کوئی غلطی نظر آئے تو اس پر ضرور متنبہ فرمایا جائے۔ اب اس مسئلے میں اپنی تحقیق عرض کرتا ہوں، جن حضرات کو اس تحقیق سے اتفاق نہ ہو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرماسکتے ہیں۔

فتاویٰ عالمگیری (ج:۱ ص:۱۸۸ طبع جدید کوئٹہ) میں ہے:

’’ذمی کافروں کو زکوٰۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں، نفلی صدقہ دینا بالاتفاق جائز ہے، مگر صدقۂ فطر ، نذر اور کفارات میں اختلاف ہے، اِمام ابوحنیفہؒ اور اِمام محمدؒ فرماتے ہیں کہ جائز ہے، مگر فقرائے مسلمین کو دینا ہمیں زیادہ محبوب ہے۔ شرح طحاوی میں اسی طرح ہے۔‘‘(۱)

درمختار مع شامی (ج:۲ ص:۳۵۱ طبع جدید مصر) میں ہے:

’’زکوٰۃ اور عشر و خراج کے علاوہ دیگر صدقات، خواہ واجب ہوں، جیسے: نذر، کفارہ، فطرہ، ذمی کو دینا جائز ہے۔ اس میں اِمام ابویوسفؒ کا اختلاف ہے، اور انہی کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے، حاوی قدسی۔‘‘(۲)

علامہ شامیؒ اس پر لکھتے ہیں:

’’ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ یہ اِمام ابویوسفؒ کی ایک روایت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِمام ابویوسفؒ کا مشہور قول اِمام ابوحنیفہؒ و محمدؒ کے مطابق ہے۔‘‘

’’خیر رملی کے حاشیہ میں حاوی سے جو نقل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اِمام ابویوسفؒ کے قول کو لیتے ہیں (لیکن ہدایہ وغیرہ کے کلام کا مفاد یہ ہے کہ اِمام ابوحنیفہؒ و محمدؒ کا قول راجح ہے اور عام متون اسی پر ہیں۔‘‘(۳)

فتاویٰ قاضی خان برحاشیہ عالمگیری (ج:۱ ص:۲۳۱) میں ہے:

’’اور جائز ہے کہ صدقۂ فطر فقراء اہل ذمہ کو دیا جائے، مگر مکروہ ہے۔‘‘(۴)

ان عبارات سے حسبِ ذیل نتائج حاصل ہوئے:

۱:۔ اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ اور اِمام محمدؒ کے نزدیک صدقۂ فطر وغیرہ ذمی کافر کو دینا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ مسلمان کو دیا جائے، ذمی کو دینا بہتر نہیں۔

۲:۔ اِمام ابویوسفؒ کا مشہور قول بھی یہی ہے، مگر ان سے ایک روایت یہ ہے کہ صدقاتِ واجبہ کافر کو دینا صحیح نہیں۔

۳:۔ حاوی قدسی نے اِمام ابویوسفؒ کی اس روایت کو لیا ہے، مگر ہدایہ اور فقہِ حنفی کے تمام متون نے اِمام ابوحنیفہؒ و محمدؒ ہی کے قول کو لیا ہے۔

۴:۔ جن حضرات نے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا، انہوں نے غالباً حاوی قدسی کے قول پر اعتماد کیا ہے، بہشتی زیور کے متن میں بھی اسی کو لیا گیا ہے، اور بندہ نے بھی ’’جنگ‘‘ کی کسی گزشتہ اشاعت میں اسی کو اِختیار کیا تھا، لیکن اِمام ابوحنیفہؒ و محمدؒ کا فتویٰ جواز کا ہے، اور حاوی قدسی کے علاوہ تمام اکابر نے اسی کو اِختیار کیا ہے، بہشتی زیور کے حاشیہ میں بھی اسی کو نقل کیا ہے، اس لئے اس ناکارہ نے اپنے پہلے مسئلہ سے رُجوع کرنا ضروری سمجھا تھا۔

  1. (۱) وأما أھل الذمۃ فلا یجوز صرف الزکٰوۃ إلیھم بالْإتفاق ویجوز صرف صدقۃ التطوّع إلیھم بالْإتفاق واختلفوا فی الصدقۃ الفطر والنذر والکفارات قال أبو حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالٰی یجوز إلّا أن فقراء المسلمین أحب إلینا کذا فی شرح الطحاوی۔ (عالمگیری ج؛۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  2. (۲) وجاز دفع غیرھا وغیر العشر والخراج إلیہ أی الذمی ولو واجبا کنذر وکفارۃ وفطرۃ خلافًا للثانی وبقولہ یفتی حاوی القدسی۔ (الدر المختار مع الشامی ج:۲ ص: ۳۵۱، باب المصرف)۔
  3. (۳) وصرّح فی الھدایۃ وغیرھا بأن ھٰذا الروایۃ عن الثانی، وظاھر أن قولہ المشھور کقولھما (قولہ وبقولہ یفتی) الذی فی حاشیۃ الخیر الرملی عن الحاوی وبقولہ نأخذ، قلت لٰـکن کلام الھدایۃ وغیرھا یفید ترجیح قولھما وعلیہ المتون۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۲)۔
  4. (۴) ویجوز أن یعطی فقراء أھل الذمۃ ویکرہ۔ (فتاویٰ قاضیخان بر حاشیہ عالمگیری ج:۱ ص:۲۳۱)۔