زکوٰۃکےمتفرّقمسائل
سودکیرقمپرزکوٰۃ
سوال:۔
ایک شخص کا بینک میں اکاؤنٹ ہے، اور سال کے آخر میں اپنے اکاؤنٹ میں جتنا منافع ملتا ہے، ٹھیک اتنے ہی کا چیک کاٹ کر نکال لیتا ہے، اور پھر غریبوں میں یہ سمجھ کر بانٹ دیتا ہے کہ ثواب ملے گا یا زکوٰۃ بانٹ دیتا ہے تو کیا واقعی ثواب ملے گا یا نہیں؟ اسلامی شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
سود کی رقم صدقے کی نیت سے کسی کو نہیں دینی چاہئے، بلکہ ثواب کی نیت کے بغیر کسی محتاج کو دے دینی چاہئے۔(۱) صدقہ تو پاک چیز کا دیا جاتا ہے، سود کا نہیں۔ پس سود کی رقم سے زکوٰۃ ادا نہیں کی جاسکتی۔(۲)
- (۱) انما یکفر إذا تصدق بالحرام القطعی، أی مع رجاء الثواب الناشیٔ استحلالہ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۹۲)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱)، أیضًا: فی القنیۃ لو کان الخبیث نصابًا لَا یلزمہ الزکٰوۃ لأن الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید إیجاب التصدق ببعضہ اھـ ومثلہ فی البزازیۃ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۹۱، باب زکاۃ الغنم)۔

