بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کے‌متفرّق‌مسائل

زکوٰۃ‌کے‌لئے‌نکالی‌ہوئی‌رقم‌یا‌سود‌کا‌استعمال

سوال:۔

ایک شخص نے زکوٰۃ کی رقم یا سود کی رقم مستحق کو دینے کے لئے نکالی، لیکن عین وقت پر اسے کچھ رقم کی ضرورت پڑگئی، تو کیا وہ زکوٰۃ یا سود کی رقم سے بطور قرض لے سکتا ہے؟

جواب:۔

زکوٰۃ کی رقم تو اس کی ملکیت ہے جب تک کسی کو ادا نہیں کردیتا، اس لئے اس کا استعمال کرنا صحیح ہے۔(۱) سود کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔(۲)

  1. (۱) ولَا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالأداء للفقراء۔ قولہ ولَا یخرج ۔۔۔ فلو ضاعت لَا تسقط عنہ الزکٰوۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷۰، مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۴، طبع قدیمی)۔ أیضًا: أن ما وجب التصدق بکلہ لَا یفید التصدق ببعضہ لأن المغصوب إن علمت أصحابہ أو ورثتھم وجب ردہ علیھم وإلّا وجب التصدق بہ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۹۱، باب زکاۃ الغنم)۔