بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کے‌متفرّق‌مسائل

زکوٰۃ‌کی‌مد‌میں‌رکھے‌ہوئے‌پیسوں‌میں‌سے‌کھلا‌کرنا،‌ضرورت‌کے‌لئے‌لینا

سوال:۔

کیا زکوٰۃ کی مد کے رکھے ہوئے الگ پیسے میں سے پیسے کھلے کرسکتے ہیں؟ یا عارضی ضرورت کے لئے اس میں سے پیسے نکال سکتے ہیں؟

جواب:۔

جو پیسے آپ نے زکوٰۃ کی مد میں الگ رکھ دئیے ہیں، وہ جب تک فقیر کو اَدا نہیں کئے جاتے، وہ پیسے آپ ہی کی ملکیت ہیں، ان کو بدل بھی سکتی ہیں، خرچ بھی کرسکتی ہیں، لیکن جب فقیر کو دینے ہوں گے تو زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہوگا۔(۱)

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)، وأما شرط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، شامی ج:۲ ص:۲۷۰)۔