بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کے‌متفرّق‌مسائل

زکوٰۃ‌دہندہ‌جس‌ملک‌میں‌ہو‌اسی‌ملک‌کی‌کرنسی‌کا‌اعتبار‌ہوگا

سوال:۔

چند دوست مل کر اپنے وطن کے مستحقین کے لئے زکوٰۃ کی مد سے رقم بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن وہاں کی کرنسی اور ہماری کرنسی میں فرق ہے، مثلاً: یہاں سے ۰۰۰،۵۰روپے بھیجیں گے تو ان کو۰۰۰،۴۰روپے ملیں گے، اب یہ پوچھنا ہے کہ زکوٰۃ ۰۰۰،۵۰ روپے کی ادا ہوگی یا ۰۰۰،۵۰روپے کی ادا ہوگی؟ کیونکہ وہاں کے اور یہاں کے دام میں یہی فرق چلتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے دیس میں زکوٰۃ بھیجیں جہاں کی کرنسی کی قیمت یہاں کی کرنسی کی قیمت سے کم ہو، یعنی اگر ہم یہاں سے ۰۰۰،۵۰روپے بھیجیں تو وہاں ۰۰۰،۶۰روپے ملیں، تو اس صورت میں زکوٰۃ ۰۰۰،۵۰روپے کی ادا ہوگی یا ۰۰۰،۶۰روپے کی؟ دونوں مسئلوں کا جواب بہت ضروری ہے، کیونکہ دونوں دیس میں ہماری برادری کے کچھ آدمی بستے ہیں، اس کو اگر اخبار ’’جنگ‘‘ میں شائع کرادیں تو بہتوں کا بھلا ہوگا، کیونکہ کئی لوگ اس طرح پیسے بھیجتے رہتے ہیں تو ان کو بھی مسئلے کا پتا چل جائے گا۔

جواب:۔

زکوٰۃ دہندہ نے جس ملک کی کرنسی سے زکوٰۃ ادا کی ہے وہاں کی کرنسی کا اعتبار ہوگا، اس ملک کی کرنسی سے جتنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اتنے مال کی زکوٰۃ شمار ہوگی، دُوسرے ملک کی کرنسی خواہ کم ہو یاز یادہ۔

دُوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ جو رقم کسی محتاج یا محتاجوں کو دی گئی ہے وہ زکوٰۃ ادا کرنے والے کے مال کا چالیسواں حصہ ہونا چاہئے، جس کرنسی میں زکوٰۃ ادا کی گئی ہو اس کرنسی کے حساب سے چالیسویں حصے کا اعتبار ہوگا۔(۱)

  1. (۱) المال الذی تجب فیہ الزکٰوۃ إن أدی زکاتہ من خلاف جنسہ أی قدر قیمۃ الواجب إجماعًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔