پیداوارکاعشر
عشرکیادائیگیسےمتعلقمتفرقمسائل
سوال:۔
کیا عشر کا زکوٰۃ کی طرح نصاب ہے؟ کیونکہ حکومت نے ایک مقدار مقرّر کی ہوئی ہے، اگر فصل اس مقدار سے زیادہ ہو تو عشر دینا لازمی ہے، ورنہ نہیں۔
سوال:۔
حکومت کو عشر، زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ تصرف بہت مشکوک ہے۔
سوال:۔
بارانی زمین کی فصل پر عشر دسواں حصہ ہے، اور نہری، چاہی وغیرہ پر بیسواں حصہ، کیا بیسواں حصہ اس لئے مقرّر ہے کہ مؤخر الذکر پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں، اگر یہ صحیح ہے تو آج کل کیڑے مار اسپرے اور کیمیائی کھاد کا اضافہ خرچ کاشتکار کو برداشت کرنا پڑتا ہے، کیا اسپرے وغیرہ کا خرچ فصل کی آمدنی سے کم کرکے عشر دینا ہوگا یا کل پیداوار پر عشر دینا ہوگا؟
سوال:۔
فرض کریں ڈھائی ایکڑ زمین سے ۱۰۰ من گندم پیدا ہوتی ہے، اس گندم کی کٹائی کا خرچ تقریباً ۵ من ہوگا، گندم کی کٹائی دو من فی ایکڑ کے حساب سے کرتے ہیں، اور تھریشر (گہائی) کا خرچ تقریبا ۱۵ من ہوگا، بچت آمدنی ۸۰ من ہوگی، کیا عشر ۱۰۰من پر دینا ہوگا یا ۸۰ من پر؟
سوال:۔
گندم کی فصل کی کٹائی کی مزدوری گندم میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ گندم کی فصل کی کٹائی کی مزدوری صرف گندم کی صورت میں لیتے ہیں۔
جواب:۔
حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عشر کا نصاب نہیں، بلکہ ہر قلیل و کثیر میں عشر واجب ہے،(۱) حکومت ایک خاص مقدار پر عشر وصول کرتی ہے، اس سے کم کا عشر مالک کو خود ادا کرنا چاہئے۔
جواب:۔
اعتماد نہ ہو تو نہ دیا جائے، لیکن کیا ایسا ممکن بھی ہے کہ حکومت عشر وصول کرے اور کسان ادا نہ کرے؟
جواب:۔
شریعت نے اخراجات پر نصف عشر (یعنی دسویں حصے کے بجائے بیسواں حصہ) کردیا ہے، اس لئے اخراجات کو منہا کرکے عشر نہیں دیا جائے گا، بلکہ تمام پیداوار کا عشر دیا جائے گا۔(۲)
جواب:۔
عشر سو من پر آئے گا۔(۳)
جواب:۔
صاحبینؒ کے نزدیک جائز ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے۔(۴)
- (۱) کان أبو حنیفۃ یقول: فی قلیل الثمار والزروع، وفی کثیرھا الصدقۃ ۔۔۔ والحجۃ لأبی حنیفۃ فی إیجاب الحق فی جمیع الأصناف خلا ما ذکرنا، قول اللہ تعالٰی: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم ﵞ، وعمومہ یوجب الحق فی کل خارج ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۲۸۷)۔ قال أبو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی: فی قلیل ما أخرجتہ الأرض وکثیرہ العشر ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۶، باب زکاۃ الزروع)۔
- (۲) وکل شیء أخرجتہ الأرض مما فیہ العشر لَا یحتسب فیہ أجر العمال ونفقۃ البقر، لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حکم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنۃ فلا معنی لرفعھا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۰۳، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الزروع والثمار، أیضًا: فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۲۸ باب العشر)۔ نیز دیکھئے گذشت حاشیہ: قولہ بلا رفع مؤن ۔۔۔ الخ اور قال أبو جعفر...الخ
- (۳) بلا رفع مؤن ۔۔۔ بلا رفع أجرۃ العمال ونفقۃ البقر وکری الأنھار وأجرۃ الحافظ ونحو ذٰلک ۔۔۔ بل یجب فی الکل ۔۔۔إلخ۔ (شامی، باب العشر ج:۲ ص:۳۲۸)۔ وکل شیء أخرجتہ الأرض مما فیہ العشر لَا یحتسب فیہ أجر العمّال ونفقۃ البقر لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حکم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنۃ فلا معنی لرفعھا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۰۳، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الزروع والثمار)۔
- (۴) ولَا تصح عند الْإمام لأنھا کقفیز الطحان وعندھما تصح وبہ یفتی للحاجۃ وقیاسًا علی المضاربۃ۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۲۷۵، کتاب المزارعۃ، طبع سعید)۔

