بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پیداوار‌کا‌عشر

عشر‌کی‌رقم‌رفاہِ‌عامہ‌کے‌لئے‌نہیں،‌بلکہ‌فقراء‌کے‌لئے‌ہے

سوال:۔

حکومتِ پاکستان نے جو زکوٰۃ و عشر کمیٹیاں بنائی ہیں، ان کے پاس عشر کی کافی رقم جمع ہے، کیا رقم عشر رفاہِ عامہ پر خرچ کی جاسکتی ہے؟ مثلاً: اسکول کی عمارت یا چار دیواری یا گلیاں وغیرہ؟

جواب:۔

زکوٰۃ اور عشر کی رقم صرف فقراء و مساکین کو دی جاسکتی ہے،(۱) رفاہِ عامہ پر خرچ کرنا جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) مصرف الزکاۃ والعشر ۔۔۔ (ھو فقیر وھو من لہ أدنیٰ شیء) أی دون نصاب ۔۔۔ (ومسکین، من لَا شیء لہ) علی المذھب ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۲ ص:۲۳۹ باب المصرف، أیضًا: اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص: ۱۴۸)۔
  2. (۲) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔