پیداوارکاعشر
ٹریکٹروغیرہچلانےسےزراعتکاعشربیسواںحصہہے
سوال:۔
پہلے زمانے میں لوگ کاشت کاری کرتے تھے، تو صرف ہل چلاکر اور پانی لگاکر پیداوار حاصل کرتے تھے، لیکن موجودہ دور میں ٹریکٹروں کے ذریعے سے ہل چلائے جاتے ہیں، اور پھر زمین میں کھاد ڈالنی پڑتی ہے، اور دُوسری گوڈی وغیرہ کرائی جاتی ہے، تو ایسی زمین کا عشر ادا کرنا ہو تو زمین پر جو خرچہ ہوتا ہے اس کو نکال کر عشر ادا کیا جائے یا کل پیداوار کا بغیر خرچہ نکالے عشر ادا کرنا ہوگا؟ نیز عشر ادا کرتے وقت بیج نکال کر عشر ادا کریں یا بیج نکالے بغیر ادا کریں؟
جواب:۔
ایسی زمین کی پیداوار میں نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہے،(۱) اخراجات کو وضع نہیں کیا جائے گا، بلکہ پوری پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کرنا ہوگا، بیج کو بھی اخراجات میں شمار کیا جائے گا۔(۲)
قال أبو جعفر: کان أبوحنیفۃ یقول: فی قلیل الثمار والزروع، وفی کثیرھا الصدقۃ، فإن کانت مما سقَتْہ السماء أو سقی فتحًا، فالعشر، وإن سُقی بدالیۃ أو سانیۃ: فنصف العشر ۔۔۔ والحجۃ لأبی حنیفۃ فی إیجاب الحق فی جمیع الأصناف خلا ما ذکرنا، قول اللہ تعالٰی: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم ﵞ، وعمومہ یوجب الحق فی کل خارج إلّا ما قام دلیلہ ویدل علیہ أیضًا قول اللہ تعالٰی:ﵟ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ ﵞ، وذلک عام فی کل ثمرۃ فی جمیع ما یقع فیہ الحصاد۔ (شرح مختصر الطحطاوی ج:۲ ص:۲۸۷، ۲۸۸ کتاب الزکاۃ)۔
- (۱) قولہ یجب العشر ثبت ذالک بالکتاب والسُّنَّۃ والْإجماع والمعقول: أی یفترض لقولہ تعالٰی: ﵟ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ ﵞ، فإنّ عامۃ المفسرین علٰی أنہ العشر أو نصفہ وھو مجمل بیّنہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما سقت السماء ففیہ العشر، وما سقی بغرب أو دالیۃ ففیہ نصف العشر۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۳۲۵، باب العشر)
- (۲) قولہ بلا رفع مؤن أی یجب العشر فی الأول ونصفہ فی الثانی بلا رفع أجرۃ العمال ونفقۃ البقر وکری الأنھار وأجرۃ الحافظ ونحو ذٰلک ۔۔۔ بل یجب العشر فی الکل ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۲۸، باب العشر)۔

