پیداوارکاعشر
عشراداکردینےکےبعدتافروختغلہپرنہعشرہے،نہزکوٰۃ
سوال:۔
دھان سے بروقت عشر نکالا ہے، غلہ سال بھر رکھا رہا، یعنی نہ اپنی کسی ضرورت میں استعمال ہوتا ہے اور نہ مارکیٹ میں اس کی کھپت ہے، کیا سال گزرنے پر اس میں سے عشر دیا جائے گا یا چالیسواں حصہ زکوٰۃ؟
جواب:۔
ایک بار عشر ادا کردینے کے بعد جب تک اس کو فروخت نہیں کیا جاتا اس پر نہ دوبارہ عشر ہے، نہ زکوٰۃ،(۱) اور جب عشر ادا کرنے کے بعد غلہ فروخت کردیا تو اس سے حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوگی جب اس پر سال گزر جائے گا، یا اگر یہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو جب اس کے نصاب پر سال پورا ہوگا، اس وقت اس رقم کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گا۔(۲)
- (۱) ووقتہ وقت خروج الزرع وظھور الثمر عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی کذا فی البحر الرائق۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۶، کتاب الزکاۃ، الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار)۔
- (۲) گزشتہ حاشیہ: ومن کان لہ نصاب...الخ

