پیداوارکاعشر
غلہاورپھلکیپیداوارپرعشرکیادائیگی
سوال:۔
کیا غلہ یا پھل کے بدلے اس کی قیمت زکوٰۃ کی شکل میں وصول کی جاسکتی ہے یا جنس ہی وصول کرنا ضروری ہے؟ ایک صاحب فرما رہے تھے کہ اگر جنس کی قیمت دے دی گئی تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی، حالانکہ عشر کے آرڈیننس میں قیمت ہی وصول کی جاتی ہے۔
دُوسری بات یہ کہ کیا زرعی پیداوار میں بھی کچھ نصاب ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں نصاب کی قید نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کم سے کم ایک وسق ہونا ضروری ہے، ایک وسق کا کیا وزن ہوتا ہے، ہم لوگوں کو معلوم نہیں، براہ کرم فقہِ حنفی کی رُو سے جواب سے سرفراز فرمائیں، تاکہ شکوک دُور ہوں۔
جواب:۔
عشری پیداوار اگر بارانی ہو تو اس پر عشر (یعنی دسواں حصہ واجب ہے) اگر اس پیداوار پر پانی وغیرہ کے مصارف آتے ہوں تو بیسواں حصہ واجب ہے۔(۱) اصل واجب تو پیداوار ہی کا حصہ ہے، لیکن یہ بھی اختیار ہے کہ اتنے غلے کی قیمت دے دی جائے۔(۲) حکومت جو فی ایکڑ کے حساب سے عشر وصول کرتی ہے یہ صحیح نہیں، ہونا یہ چاہئے کہ جتنی پیداوار ہو اس کا دسواں یا بیسواں حصہ لیا جائے، پورے علاقے کے لئے عشر کا فی ایکڑ ریٹ مقرّر کردینا غلط ہے۔(۳)
- (۱) قولہ یجب العشر ثبت ذالک بالکتاب والسُّنَّۃ والْإجماع والمعقول: أی یفترض لقولہ تعالٰی: ﵟ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ ﵞ، فإنّ عامۃ المفسرین علٰی أنہ العشر أو نصفہ وھو مجمل بیّنہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما سقت السماء ففیہ العشر، وما سقی بغرب أو دالیۃ ففیہ نصف العشر۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۳۲۵، باب العشر)
- (۲) المال الذی تجب فیہ الزکٰوۃ إن أدی زکاتہ من خلاف جنسہ أدی قدر قیمۃ الواجب إجماعًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض)۔
- (۳) لأنہ یجب فی الخارج لَا فی الأرض۔ (شامی ج:۲ ص:۳۲۶، باب العشر)۔

