بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پیداوار‌کا‌عشر

عشر‌کتنی‌آمدنی‌پر‌ہے؟

سوال:۔

گزارش یہ ہے کہ آپ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ہے کہ: ’’جو شخص بھی زمین کی فصل اُٹھائے خواہ کم ہو یا زیادہ، اس کے ذمہ عشر واجب ہے‘‘ اس سلسلے میں یہ بھی وضاحت فرمادیں کہ اگر کسی شخص کے پاس تھوڑی سی زمین ہے اور وہ اس پر کاشت کرتا ہے، فصل اچھی نہیں ہوتی، کھاد، پانی اور کیڑے مار دوائیوں کے اخراجات بھی بمشکل پورے ہوتے ہیں، جو فصل آتی ہے وہ اس کی ضروریات سے بہت کم ہے، اس طرح وہ صاحبِ نصاب نہیں ہے اور مستحقِ زکوٰۃ ہے، تو کیا ایسی صورت میں وہ اپنی فصل کا عشر خود استعمال کرسکتا ہے؟

جواب:۔

اس کی ذاتی پیداوار کا عشر اس کے ذمہ واجب ہے، اس کو خود استعمال نہیں کرسکتا۔(۱)

وفی الخضروات التی...الخ -قال أبو جعفر: کان ...الخ أیضًا: ولَا یأکل شیئًا من طعام العشر حتّی یؤدی عشرۃ کذا فی الظھیریۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۷، کتاب الزکاۃ، الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار)۔

  1. (۱)بلا شرط نصاب ۔۔۔ وبلا شرط بناء وحولَان حول ۔۔۔إلخ۔ وفی الشرح: حتّی لو أخرجت الأرض مرارًا وجب فی کل مرۃ لِاطلاق النصوص عن قید الحول ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۲۶، باب العشر)۔