پیداوارکاعشر
زمینکیہرپیداوارپرعشرہے،زکوٰۃنہیں
سوال:۔
عشر کا نصاب کیا ہے؟ اور کن کن چیزوں کا عشر دیا جاتا ہے؟ زرعی پیداوار میں ۵فیصد زکوٰۃ دی جاتی ہے تو کیا زرعی پیداوار میں عشر اور زکوٰۃ دونوں ادا کرنے ہوں گے؟
جواب:۔
حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عشری زمین کی ہر پیداوار پر عشر واجب ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔(۱) اگر زمین بارانی ہو تو اس کی پیداوار میں دسواں حصہ واجب ہے، اور اگر کنویں کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، یا نہری پانی خرید کر لگایا جاتا ہو تو اس میں بیسواں حصہ واجب ہے۔(۲) حضرت اِمامؒ کے نزدیک پھلوں، سبزیوں، ترکاریوں اور مویشیوں کے چارے میں بھی، جس کو کاشت کیا جاتا ہو، عشر واجب ہے۔ زرعی پیداوار میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، صرف عشر واجب ہے، جس کی تفصیل اُوپر ذکر کردی گئی۔
- (۱) قال أبو جعفر: کان أبوحنیفۃ یقول: فی قلیل الثمار والزروع، وفی کثیرھا الصدقۃ، فإن کانت مما سقَتْہ السماء أو سقی فتحًا، فالعشر، وإن سُقی بدالیۃ أو سانیۃ: فنصف العشر ۔۔۔ والحجۃ لأبی حنیفۃ فی إیجاب الحق فی جمیع الأصناف خلا ما ذکرنا، قول اللہ تعالٰی: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم ﵞ، وعمومہ یوجب الحق فی کل خارج إلّا ما قام دلیلہ ویدل علیہ أیضًا قول اللہ تعالٰی:ﵟ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ ﵞ، وذلک عام فی کل ثمرۃ فی جمیع ما یقع فیہ الحصاد۔ (شرح مختصر الطحطاوی ج:۲ ص:۲۸۷، ۲۸۸ کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) ویجب العشر عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی فی کل ما تخرجہ الأرض من الحنطۃ والشعیر والبطیخ والقثاء والخیار والباذنجان والعصفر وأشباہ ذٰلک مما لہ ثمرۃ باقیۃ أو باقیۃ قل أو کثر ھٰکذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۶، کتاب الزکاۃ، الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار)۔

