بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌سے‌چندہ‌وصول‌کرنے‌والے‌کو‌مقرّرہ‌حصہ‌دینا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

دینی مدارس کے چندے کے لئے بعض بچے چھوٹے چھوٹے صندوقچے لے کر دُوسرے شہروں میں جاکر چندہ مانگتے ہیں، ان میں اکثر افراد چندہ رقم سے حصہ مقرّرہ پر چندہ مانگتے ہیں، بعض کی تنخواہ ہوتی ہیں، اگر کوئی زکوٰۃ کی رقم ان کو دے تو کیا زکوٰۃ کا فرض ادا ہوجائے گا یا نہیں؟ کیونکہ چندہ مانگنے والوں میں بعض کا حصہ: ۱ ۲، ۱ ۳، ۱ ۴ ہوتا ہے، تو پوری رقم مدرسہ میں نہیں پہنچتی، اس لئے براہِ کرم تفصیل سے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔

جواب:۔

چندہ کے حصے پر سفیر مقرّر کرنا جائز نہیں،(۱) مدارس کو جو زکوٰۃ دی جاتی ہے اگر وہ صحیح مصرف پر خرچ کریں گے تو زکوٰۃ ادا ہوگی، ورنہ نہیں، اس لئے زکوٰۃ صرف انہی مدارس کو دی جائے جن کے بارے میں اطمینان ہو کہ وہ ٹھیک مصرف پر خرچ کرتے ہیں۔ جن مدارس کے نام پر بچے چندے مانگتے ہیں، وہ زکوٰۃ کو صحیح مصرف میں خرچ نہیں کرتے ہیں، اس لئے ایسے مدارس کو چندہ میں زکوٰۃ نہ دی جائے۔

  1. (۱) دیکھئے: نظام الفتاویٰ ج:۲ ص:۳۶۱ طبع مکتبہ رحمانیہ۔