بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کی‌رقم‌کا‌رفاہی‌اُمور‌میں‌اِستعمال

سوال:۔

تقریباً ۱۰۰ سے زائد اَفراد نے مل کر ایک ویلفیئر سوسائٹی قائم کی ہے، یہ قریش وشیخ برادران پر مشتمل ہے، یہ خالصتاً سماجی تنظیم ہے اور برادری ہی کے ان افراد کے لئے جو معذور، نادار، بیوہ، یتیم ہوں، زکوٰۃ، صدقات، چرمِ قربانی، فطرہ وغیرہ لیتی ہے اور ماہانہ وظیفے کے طور پر مستحقین کے گھروں پر پہنچاتی ہے۔ علاج معالجہ بھی کرواتی ہے، اور شادی کے موقع پر مالی اِمداد بھی کرتی ہے۔

طریقۂ کار یہ ہے کہ عہدے داران گھر گھر جاکر یہ عطیات وصول کرتے ہیں اور اس طرح محتاط اندازے کے مطابق ستر ہزار روپے بینک میں ان مدات میں جمع ہیں، اور جب کسی مستحق کی درخواست آتی ہے تو باقاعدہ زکوٰۃ کمیٹی کا اِجلاس ہوتا ہے اور تحقیق کرنے کے بعد درخواست پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ اب نئی صورت یہ درپیش ہے کہ لوگ ہم سے مکان خریدنے کے لئے یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کے لئے زکوٰۃ کمیٹی کے اراکین پر برادری کے بااَثر اَفراد کا دباؤ بھی ڈالتے ہیں، کیا ہم زکوٰۃ کی رقم سے تجارت، کاروبار یا مکان خریدنے کے لئے قرضِ حسنہ ماہانہ قسط واجب الادا دے سکتے ہیں؟

جواب:۔

زکوٰۃ کی رقم قرض میں نہ دی جائے بلکہ جس شخص کو دینی ہو اور وہ ضرورت مند ہو، اس کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنادیا جائے۔ اگر چھوٹا موٹا مکان خرید کر اس کو مالک بنادیا جائے تو بھی صحیح ہے، بہرحال زکوٰۃ کی رقم قرض میں نہ دی جائے، واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المساجد وکذا القناطر ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔ ولو دفع إلیہ دار لیسکنھا عن الزکٰوۃ لَا یجوز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ)۔