بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

فلاحی‌اِدارے‌اور‌زکوٰۃ‌کی‌رقم

سوال:۔

بہت سے فلاحی اِدارے زکوٰۃ، صدقات کی ملنے والی رُقومات کو بینکوں میں جمع کرتے ہیں، اور ان رقوم میں سود کا اِضافہ بھی ہوتا ہے، یہ بات ہم کو اس طرح معلوم ہوئی کہ اخبارات میں یہ خبر آئی کہ ان اِداروں کے بینک کھاتوں میں جو سود ملتا ہے ان پر حکومت نے انکم ٹیکس نافذ کردیا ہے، اس کے بعد معلوم ہوا کہ بات چیت ہونے پر انکم ٹیکس ختم کردیا۔ کیا ایسے اِداروں کو زکوٰۃ وصدقات کی رُقوم دینا دُرست ہے، جبکہ یہ فلاحی اِدارے رُقوم کو بینک میں رکھ کر سود سے یہ فلاحی اِدارے چلاتے ہیں؟

جواب:۔

یہاں چند مسائل کا سمجھ لینا ضروری ہے۔

۱:۔ زکوٰۃ کے لئے تملیک شرط ہے، کہ زکوٰۃ کی رقم کا کسی محتاج کو مالک بنادیا جائے، ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ مالک کے ذمے باقی رہے گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مقروض مرجائے تو مرنے کے بعد اس کا قرضہ زکوٰۃ کی رقم سے ادا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ میّت مالک بننے کی اہل نہیں۔ اسی طرح اگر زکوٰۃ کی رقم سے ہسپتال بنادیا، کوئی عمارت بنادی، یا کسی رفاہی اِدارے کو گاڑی خرید کر دے دی، یا کچھ اور سامان اس کو خرید کر دے دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

۲:۔ جن رفاہی اِداروں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے، وہ اس رقم کے خود مالک نہیں ہوجاتے، بلکہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے وکیل ہیں، اگر یہ اِدارے محتاج اور مستحق افراد کو اس رقم کا مالک بنادیتے ہیں تو زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ اور اگر وہ فقیر اور محتاج لوگوں کو یہ رقم نہیں دیتے، بلکہ اپنی صوابدید پر کسی رفاہی کام میں خرچ کردیتے ہیں، مثلاً: رفاہی اِدارے کے لئے گاڑی یا ایمبولنس خرید لی، کہیں ہسپتال بنادیا، کسی جگہ کوئی مکان بنالیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ زکوٰۃ دہندگان کے ذمے بدستور واجب رہے گی۔

۳:۔ اسی طرح اگر رفاہی اِدارے نے زکوٰۃ کی رقم بینک میں رکھوادی تو جب تک وہ رقم بینک میں ہے تب تک زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، زکوٰۃ تب ادا ہوگی جب یہ رقم بینک سے وصول کرکے کسی مستحق محتاج کے حوالے کردی جائے گی۔(۱)

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔ ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ ولَا یقضی بھا دین المیت۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔