بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ،‌صدقات‌وصول‌کرنے‌والی‌ویلفیئر‌شاپ‌سے‌سیّد‌کو‌اَشیاء‌خریدنا

سوال:۔

ہمارے علاقے میں ایک ویلفیئر شاپ ہے جہاں کھانے پینے اور ضروریاتِ زندگی کی دُوسری چیزیں فروخت ہوتی ہیں، یہ اشیاء بازار میں جو عام دُکان دار فروخت کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں نہایت ہی کم منافع پر فروخت ہوتی ہیں، یوں سمجھا جائے کہ یہ لوگ اس مہنگائی کے دور میں نہایت ہی کم منافع پر اشیاء فروخت کرکے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ ان ویلفیئر والوں کو فنڈ، ڈونیشن، خیرات اور زکوٰۃ بھی ملتی ہے، مسئلہ زکوٰۃ کا بھی ہے، اور میرا تعلق چونکہ سیّد گھرانے سے ہے تو کیا ہم بھی اس ویلفیئر شاپ سے سامان خرید سکتے ہیں؟ زیادہ سامان خریدا جائے تو عام دُکان داروں کی نسبت کافی بچت ہوجاتی ہے۔ ہم نے بھی اسی نیت سے رمضان المبارک میں سامان خریدا، جبکہ والد صاحب کا کہنا ہے کہ ہم اس ویلفیئر شاپ سے سامان خرید سکتے ہیں، کیونکہ ہم اس مال کی قیمت ادا کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ویلفیئر والے اسی قیمت میں مال فروخت کرتے جس قیمت کا انہوں نے خود خریدا ہے تو پھر ہم یہ مال خریدنے کے مستحق نہیں تھے۔ مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہم بھی اس ویلفیئر شاپ سے سامان خرید سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو جو مال خرید کر ہم گناہگار ہوئے، اس کا کفارہ کس طرح ادا کریں؟

جواب:۔

زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی مد میں اگر اس اِدارے میں رقمیں جمع کرائی جاتی ہیں، تو سیّدوں کو وہاں سے چیز خریدنا صحیح نہیں۔(۱) اور خود ایسے اِدارے میں رقم جمع کروانا بھی صحیح نہیں، یعنی زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم ایسے اِدارے میں جمع کروانا صحیح نہیں۔(۲)

  1. (۱) ولَا یدفع إلٰی بنی ھاشم۔ (عالمگیری ج:۱ ص: ۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  2. (۲) ولَا یجوز أن ینبی بالزکٰوۃ المسجد ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔