(مصارفِزکوٰۃ)
زکوٰۃکیرقمکوکاروبارمیںلگاکراُسکےمنافعسےغریبوںکیمددکرنا
سوال:۔
کیا یہ صحیح اور مطابق شرع ہوگا کہ زکوٰۃ کی رقم کو کسی مناسب جگہ کاروبار میں لگادیا جائے، یا این آئی ٹی یونٹس خرید لئے جائیں اور حاصل ہونے والے منافع سے مستحقینِ زکوٰۃ کی مدد کردی جائے؟
جواب:۔
کسی شخص کی زکوٰۃ اس وقت ادا ہوگی جب وہ رقم مستحقین پر تقسیم کردی جائے گی۔(۱) پس زکوٰۃ کی رقم اگر کسی اِدارے میں رکھوادی جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی جب تک کہ مستحقین پر تقسیم نہیں کردی جاتی۔ اور اگر یہ شخص زکوٰۃ کے تقسیم ہونے سے پہلے مرجائے تو زکوٰۃ اس کے ذمے رہے گی، اور بعد میں وارثوں کی اِجازت کے بغیر وہ زکوٰۃ ادا نہیں کی جاسکتی۔ البتہ وارث اگر عاقل، بالغ ہوں تو اس کی تقسیم کی اِجازت دے سکتے ہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ بہت نازک ہے، اس لئے میرے خیال میں فریضۂ زکوٰۃ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مستحقین کو فوراً دے دی جائے۔
- (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ)۔

