بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

رفاہی‌انجمن‌کے‌ذریعے‌زکوٰۃ‌کی‌تقسیم

سوال:۔

ہماری ایک چھوٹی سی خاندانی انجمن ہے، ہم اپنے ممبران سے زکوٰۃ وصول کرکے خاندان کے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں، بیشتر اَفراد رمضان المبارک میں زکوٰۃ نکالتے ہیں اور ان کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ یہ زکوٰۃ اسی ماہ ضرورت مندوں کو پہنچادی جائے۔ تاحال یہی طریقہ اِختیار کیا جاتا رہا ہے، لیکن بعض افراد یہ چاہتے ہیں کہ بجائے یک مشت رقم کے ان کے لئے ماہانہ مقرّر کردیا جائے۔

پہلا سوال قرآنِ کریم اور شرع کی روشنی میں یہ ہے کہ اگر ہم زکوٰۃ کی مد میں جمع شدہ رقم کو اپنے پاس یعنی انجمن کے پاس روک کر پورے سال میں تقسیم کردیں تو اس طرح رمضان المبارک میں ملنے والے ثواب پر تو اَثر نہیں پڑے گا؟ کیونکہ زکوٰۃ ادا کرنے والے نے تو یک مشت رقم رمضان المبارک میں ہی ادا کردی ہے۔

جواب:۔

زکوٰۃ ادا کرنے والوں نے زکوٰۃ نکال کر انجمن کو وکیل بنادیا ہے، اس لئے ان کو تو ثواب مل گیا، آگے انجمن کی ذمہ داری ہے کہ اس کو صحیح خرچ کرے۔(۱)

  1. (۱) فلو دفع الزکٰوۃ إلیی رجل وامرأۃ ان یدفع إلی الفقراء فدفع ولم ینو عند الدفع جاز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱)۔