بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌سے‌خریدے‌گئے‌پلاٹ‌پر‌فلیٹ‌بناکر‌کچھ‌غریبوں‌کو‌دینا‌اور‌کچھ‌بیچ‌دینا

سوال:۔

ہماری جماعت نے آج سے تین سال قبل ایک پلاٹ گیارہ لاکھ روپے میں خریدا، جس میں رجسٹری خرچہ اور مزید دی گئی رقم ملاکر تقریباً ۱۹ سے ۲۰ لاکھ روپے ہیں جو کہ ٹوٹل رقم زکوٰۃ فنڈ سے دی گئی تھی خریدا گیا، آج اس پلاٹ کی قیمت ۴۰ سے ۴۵ لاکھ تک ہے۔

اب اس پلاٹ پر ہماری جماعت ایک پلازہ تعمیر کر رہی ہے، جس میں کل ۹۰ فلیٹ بنائے جائیں گے، جس میں سے ۴۰ فلیٹ زکوٰۃ کے مستحق افراد کو زکوٰۃ کی مد میں جمع شدہ رقم سے بناکر دئیے جائیں گے، جبکہ ۵۰ فلیٹ ایسے افراد کو دئیے جائیں گے جو ہر ماہ قسطوں کی صورت میں جماعت کو رقم ادا کریں گے، اور ان کی اس رقم سے ہی ان کے ۵۰ فلیٹ تعمیر ہوں گے۔

محترم! آپ سے یہ آگاہی حاصل کرنی ہے کہ جو پلاٹ ٹوٹل زکوٰۃ کی رقم سے خریدا گیا ہے اور اس کی قیمت بھی دُگنی سے زائد ہوچکی ہے، تین سال قبل ۱۹ سے ۲۰ لاکھ میں خریدا گیا پلاٹ آج ۴۰ سے ۴۵ لاکھ روپے سے زائد کا ہے، ایسی صورت میں ان ۵۰فلیٹ کا جن کی رقم مالکان ادا کرکے پھر قبضہ حاصل کریں گے، زکوٰۃ سے حاصل شدہ رقم کی زمین ان کی تعمیر کا مسئلہ اور لاگت کا مسئلہ کہ آیا (پلاٹ کی تین سال قبل کی رقم لگے گی یا آج کی رقم لگے گی) کیونکہ زمین کی خریداری زکوٰۃ کی رقم سے ہوئی ہے، اس صورت میں ۵۰ فلیٹ مالکان کے ذمے کیا رقم ہوگی؟ جبکہ جماعت کے عہدیداران ۴۰ فلیٹ زکوٰۃ کی مد میں اور ۵۰ فلیٹ رقم ادائیگی کرنے والوں کو دیں گے۔

جواب:۔

زکوٰۃ کی رقم سے خرید کی ہوئی چیز کا محتاجوں کو مالک بنادیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہوتی ہے، ورنہ نہیں ہوتی۔ آپ کی جماعت نے ۱۹-۲۰ لاکھ کا جو پلاٹ زکوٰۃ کی رقم سے خریدا ہے، چونکہ محتاجوں کو اس کا مالک نہیں بنایا گیا، اس لئے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔(۱)

  1. (۱) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔