بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کی‌رقم‌جماعت‌خانے‌کی‌تزئین‌وآرائش‌پر‌خرچ‌کرنا

سوال:۔

میں ایک برادری کے جماعت خانے کا اِنچارج ہوں، جماعت خانے میں برادری کی شادی وغمی کی تقریبات ہوتی ہیں، اس میں ایک جزوقتی ناظرہ قرآن مدرسہ بھی قائم ہے، قوم کے لوگ چندے کے علاوہ زکوٰۃ، صدقات، قربانی کی کھالیں بھی اس میں دیتے ہیں، جو اس کے لئے اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ اس رقم کا اِستعمال جماعت خانے کی تزئین وآرائش میں صَرف ہوتا ہے، مجھے اِخراجات کرنے کی پوری طرح اِجازت ہے، اور جس طرح چاہے خرچ کروں، یہ قوم کا اِعتماد ہے۔ میں چاہتا ہوں زکوٰۃ وغیرہ کی رقم مسکین اور مستحق لوگوں کو مدد کے طور دُوں۔ مگر قوم مجھے اس سلسلے میں اجازت نہیں دے گی، کیا میں اپنے طور پر بغیر قوم کو مطلع کئے یہ رقم مستحق لوگوں کو دے سکتا ہوں؟

جواب:۔

زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں جماعت خانے کی تزئین وآرائش پر اِستعمال کرنا صحیح نہیں۔ لوگوں کی زکوٰۃ اور قربانیاں صحیح نہیں ہوں گی۔ آپ اپنی برادری کو مسئلہ بتادیں، اگر وہ نہ مانیں تو جماعت خانے کے کام سے اِستعفاء دے کر سبکدوش ہوجائیں، تاکہ جماعت کے لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن آپ بھی نہ پکڑے جائیں۔(۱)

  1. (۱) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔