بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

صدقاتِ‌واجبہ‌غلط‌مصارف‌پر‌خرچ‌کرنا

سوال:۔

کراچی میں آج کل عذابِ اِلٰہی آیا ہوا ہے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر گزشتہ کئی قوموں پر آئے ہوئے عذاب وقہرِ اِلٰہی کے تذکرے موجود ہیں۔ جب قومیں خدا کی نافرمانی کرتی ہیں تو ان پر عذاب بھیجا جاتا ہے۔ ہم بھی نافرمان ہیں اور دِن رات خالق کی نافرمانی میں مصروف رہتے ہیں، لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ہم اِجتماعی نافرمانی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے حامیوں سے چندے کے ساتھ ساتھ فطرہ، صدقہ، زکوٰۃ، خیرات وغیرہ بھی وصول کرنا شروع کردیا، اور اس کا کچھ حصہ مستحقین کو اور بڑا حصہ اپنی شاہ خرچیوں اور اسلحہ وغیرہ کی خریداری پر صَرف کرنا شروع کردیا۔ کراچی کے وہ لوگ جو دیارِ غیر یعنی دُبئی، سعودی عرب، مسقط میں ہیں، انہوں نے بھی اس فعل کو کارِخیر سمجھ کر اس میں حصہ لیا اور اَب بھی اس پر عمل کر رہے ہیں۔ جبکہ صدقہ، زکوٰۃ، خیرات وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے باقاعدہ اَحکامات واضح طور پر دئیے ہیں۔ اس فعل پر کسی عالم نے کبھی توجہ نہ کی، آپ سے درخواست ہے، آپ اس کی بابت واضح طور پر بتائیں اور گزشتہ کئے گئے عمل پر توبہ اِستغفار کا کیا طریقہ ہوگا؟ نیز وہ زکوٰۃ، خیرات، صدقہ، فطرہ کیا دوبارہ دِیا جائے گا؟

جواب:۔

صدقہ، زکوٰۃ، چرمِ قربانی کی رُقوم اگر صحیح مصرف پر خرچ نہ کیا جائے تو وہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ ادا ہی نہیں ہوتے، اور صدقے کا ثواب نہیں ملتا۔

آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ کچھ عرصے سے زکوٰۃ وصدقات اور چرمِ قربانی کی رُقوم کو نااہل ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے، اور وہ بڑی بے دردی وبے پروائی کے ساتھ بے موقع خرچ کرڈالتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس کو علاماتِ قیامت میں شمار کیا گیا ہے۔(۱) ظاہر ہے کہ اس بے اِحتیاطی کے نتیجے میں عذابِ اِلٰہی تو نازل ہوگا۔ اس کے علاوہ اور بہت سی بُرائیاں اور گناہ ہیں جس میں ہم لوگ اِجتماعی طور پر مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس سے بطورِ خاص توبہ کریں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا اتخذ الفئی دولًا والأمانۃ مغنمًا والزکٰوۃ مغرمًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ، باب اشراط الساعۃ ص:۴۷۰، طبع قدیمی کتب خانہ)۔