(مصارفِزکوٰۃ)
زکوٰۃاورتعمیرِمدرسہ
سوال:۔
ایک صاحبہ کی دِلی آرزو اور خواہش تھی کہ وہ ایک دِینی مدرسہ برائے طالبات حیدرآباد شہر میں قائم کریں، جس میں لڑکیاں قرآن شریف حفظ اور ناظرہ پڑھیں۔ صاحبہ موصوفہ نے اپنے ذاتی خرچ پر ایک پلاٹ حاصل کرکے اور مدرسے کی تعمیر کے واسطے اپنے دست مبارک سے سنگِ بنیاد رکھا اور مدرسہ تاحال زیرِ تعمیر ہے۔ کچھ مخیر حضرات اس مدرسے میں اپنی زکوٰۃ وغیرہ کی رقم سے اِعانت کرنا چاہتے ہیں، دریافت طلب اُمور یہ ہیں کہ نگران مدرسہ زکوٰۃ کی یہ رقم کس طریقے پر قبول کرے اور کس طرح اس رقم کو مدرسے کی مزید تعمیر پر خرچ کرے، تاکہ زکوٰۃ دہندہ کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے اور مدرسے کی تعمیر بھی مکمل ہوجائے؟
جواب:۔
زکوٰۃ کی رقم کا کسی محتاج کو مالک بنانا ضروری ہے۔(۱) تعمیر کی مد میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ تعمیرات کی مد میں غیرزکوٰۃ کی رقم وصول کی جائے۔(۲)
- (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔

