بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

حکومت‌کے‌ذریعہ‌زکوٰۃ‌کی‌تقسیم

سوال:۔

موجودہ حکومت زکوٰۃ کے نام سے جو رقم تقسیم کر رہی ہے، شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟ بعض اوقات صاحبِ نصاب لوگ بھی خود کو مسکین ظاہر کرکے یہ رقم حاصل کرلیتے ہیں، ان کے لئے کیا حکم ہے؟ جنابِ عالی! مہربانی فرماکر یہ بتائیں کہ یہ رقم کس کے لئے جائز ہے اور کس کے لئے نہیں؟

جواب:۔

صاحبِ نصاب لوگ زکوٰۃ کا مصرف نہیں،(۱) ان کو زکوٰۃ لینا حرام ہے،(۲) اگر کسی کو فقیر سمجھ کر زکوٰۃ دے دی گئی، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی۔(۳)

  1. (۱)ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ إلٰی من یملک نصابًا أی مال کان ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) قولہ فادفع عن حاجتہ ۔۔۔ فإن کان لہ فضل عن ذٰلک تبلغ قیمتہ مائتی درھم حرم علیہ أخذ الصدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۴۷، کتاب الزکاۃ، باب المصرف)۔
  3. (۳) إذا شک وتحری فوقع فی أکبر رأیہ أنہ محل الصدقۃ فدفع إلیہ أو سأل منہ فدفع أو رآہ فی صف الفقراء فدفع فإن ظھر أنہ محل الصدقۃ جاز بالْإجماع وکذا ان لم یظھر حالہ عندہ وأما إذا ظھر أنہ غنی أو ھاشمی ۔۔۔ فإنہ یجوز وتسقط عنہ الزکٰوۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص: ۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔