بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌سے‌شفاخانے‌کا‌قیام

سوال:۔

ایک برادری کے لوگ زکوٰۃ وصول کرکے اس فنڈ سے ڈسپنسری قائم کرنا چاہتے ہیں، دوائیاں زکوٰۃ فنڈ کی رقم سے خریدی جائیں گی، ڈاکٹروں کی فیس، جگہ کا کرایہ اور دیگر اخراجات زکوٰۃ سے خرچ کئے جائیں گے، جبکہ ڈسپنسری سے ہر شخص امیر و غریب دوائی لے سکے گا۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے، جیسا کہ ادارہ زکوٰۃ وصول کرتا ہے تو وہ زکوٰۃ مستحقین میں تقسیم کرنے کے بعد بچ جاتی ہے، آیا ادارہ اس زکوٰۃ کو اسی سال ختم کردے یا اسے آئندہ سال بھی تقسیم کرسکتا ہے؟ برائے کرم اس کا جواب بھی ضروری لکھیں۔

جواب:۔

زکوٰۃ کی رقم کا مالک کسی مستحق کو بنانا ضروری ہے۔(۱) اس لئے نہ تو اس سے ڈسپنسری کی تعمیر جائز ہے،(۲) نہ ڈاکٹروں کی فیس،(۳) نہ آلات کی خرید،(۴) نہ صاحبِ حیثیت لوگوں کو اس میں سے دوائیاں دینا جائز ہے،(۵) البتہ مستحق لوگوں کو دوائیاں دے سکتے ہیں۔(۶)

جہاں تک سال ختم ہونے سے پہلے زکوٰۃ کی رقم خرچ کردینے کا سوال ہے، تو یہ اُصول ذہن میں رہنا چاہئے کہ جب تک آپ یہ رقم مستحقین کو نہیں دے دیں گے، تب تک مالکان کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی،اس لئے جہاں تک ممکن ہو اس رقم کو جلدی خرچ کردینا چاہئے۔

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔
  2. (۲) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار والحج والجھاد وکل ما لَا تملیک فیہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  3. (۳) ایضاً۔
  4. (۴) ایضاً۔
  5. (۵) ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ إلٰی من یملک نصابًا أی مال کان ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ)۔
  6. (۶) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔