بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کی‌رقم‌سے‌لحاف‌خرید‌کر‌طلباء‌کو‌صرف‌استعمال‌کے‌لئے‌دینا

سوال:۔

ایک دینی مدرسے کے سفیر میرے پاس تشریف لائے، اور اپنے مدرسے میں سردی کے لئے لحاف کی ضرورت بیان کی، اور اس کے لئے زکوٰۃ کی رقم مانگی۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ زکوٰۃ کی رقم لحافوں کے لئے کس طرح استعمال کریں گے؟ تو انہوں نے وضاحت کی کہ زکوٰۃ کی رقم سے لحاف بناکر مدرسے میں رکھ لیتے ہیں، سردی کے موسم میں طالب علموں کو اِستعمال کے لئے دے دئیے جاتے ہیں، پھر واپس لے لئے جاتے ہیں۔ جب طالب علم مدرسے سے فارغ ہوجائے تو اسے اپنے ساتھ لحاف لے جانے کی اجازت بھی نہیں۔

محترم مولانا صاحب! آپ وضاحت فرمائیں کہ کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟ کیونکہ میں نے یہ سنا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت کسی کو مالک بنانا ضروری ہے۔

جواب:۔

جی ہاں! زکوٰۃ کی رقم کا فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے۔ اس لئے لحافوں کی جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر نادار طلبہ کو ان لحافوں کا مالک بنادیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۱)

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔