(مصارفِزکوٰۃ)
زکوٰۃکیرقمسےمدرسہاورمطبچلانےکیصورت
سوال:۔
ہمارے ایک دوست اورنگی ٹاؤن میں ایک دینی مدرسہ قائم کرنا چاہتے ہیں، جس میں مقامی بچوں کو حفظ و ناظرہ تعلیم قرآن دی جائے گی اور بعدہٗ اس میں رعایتی مطب کھولنے کا ارادہ ہے، دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ کیا مدرسہ کی توسیع اور تعمیر اور معلّم کی تنخواہ زکوٰۃ، صدقات سے ادا کی جاسکتی ہے؟ کیا مطب کی مد میں زکوٰۃ، صدقات، عطیات کی رقم لی جاسکتی ہے؟
جواب:۔
بغیر تملیک کے زکوٰۃ کی رقم مسجد، مدرسہ اور مدرّسین کی تنخواہ میں استعمال نہیں ہوسکتی، اس کی تدبیر یہ ہے کہ کوئی محتاج آدمی قرض لے کر مدرسہ میں دے دے، اور زکوٰۃ کی رقم سے اس کا قرض ادا کردیا جائے، یعنی زکوٰۃ کی رقم اس کو دے دی جائے، جس سے وہ اپنا قرض ادا کرے۔ مطب کا بھی یہی حکم ہے۔(۱)
- (۱) ولو قضٰی دَین الفقیر بزکٰوۃ مالہ إن کان بأمرہ جاز وإن کان بغیر أمرہ لَا یجوز وسقط الدین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔ وفی الفتاوی الظھیریۃ: والدفع إلٰی من علیہ الدَّین أولٰی من الدفع إلی الفقیر۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۰)۔ وحیلۃ التکفین بھا التصدق علٰی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد ۔۔۔إلخ۔ قولہ لیکن الثواب لھما أی ثواب الزکٰوۃ للمزکی وثواب التکفین للفقیر۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷۱، مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء)۔

