بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

کیا‌زکوٰۃ‌اور‌چرمِ‌قربانی‌مدرسہ‌کو‌دینا‌جائز‌ہے؟

سوال:۔

مالِ زکوٰۃ اور چرمِ قربانی تعمیرِ مدارسِ عربیہ و تنخواہِ مدرّسین وغیرہ میں صرف کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ چونکہ یہاں کے کسی خطیب صاحب نے جمعہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے لوگوں کو کہا کہ تعمیرِ مدارس و تنخواہِ مدرّسین میں یہ مال صرف کرنا ناجائز ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو شبہ ہوا، کیونکہ عرصہ دراز سے لوگ مالِ زکوٰۃ یا چرمِ قربانی، بوجہ خدمتِ دین مدارس میں دیتے تھے، اور اب انہوں نے دُوسرے مساکین کو دینا شروع کیا، جس کی وجہ سے مدارس کو ظاہری طور پر نقصان ہوا، اس لئے براہِ کرم وضاحت فرمادیں تاکہ عوام الناس کے دِلوں سے شکوک رفع ہوجائیں، اور مہتممین حضرات بھی صحیح طریقے سے یہ مال صرف کریں۔

جواب:۔

زکوٰۃ، چرمِ قربانی اور صدقاتِ واجبہ سے نہ مدرسہ کی تعمیر ہوسکتی ہے،(۱) اور نہ مدرّسین کی تنخواہ میں دینا دُرست ہے،(۲) مگر چونکہ مدارسِ عربیہ کی زیادہ آمدنی اسی مد سے ہوتی ہے، اس لئے بذریعہ تملیک یہ رقم استعمال کی جاتی ہے، تملیک کی صحیح صورت کسی صاحبِ علم سے دریافت کرلیں۔

  1. (۱) ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار والحج والجھاد وکل ما لَا تملیک فیہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  2. (۲) حاشیہ گذشتہ: ولا یجوز أن یبنی بالزکوٰۃ...الخ