بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌فنڈ‌سے‌مریضوں‌کو‌دوائی‌خرید‌کر‌دینا

سوال:۔

انجمن دہلی راعیان کے زیرِ اِہتمام ایک میڈیکل سینٹر نئی کراچی میں رفاہی بنیادوں پر کام کر رہا ہے، یہاں پر غریب مریضوں کو دوائیں زکوٰۃ فنڈ سے دی جاتی ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ ہر مریض سے ٹوکن منی کے طور پر ۵ روپے لئے جاتے ہیں، کیا اس پیسے سے ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کی تنخواہ دی جاسکتی ہے؟

جواب:۔

جو غریب غرباء زکوٰۃ کے مستحق ہیں، ان کو زکوٰۃ کی رقم سے دوائیں خرید کر دی جاسکتی ہیں، اور ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کی فیس کے لئے ان کو نقد رقم دے دی جائے، اور وہ ڈاکٹر، کمپاؤنڈر کو فیس ادا کردیں۔(۱)

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)، ولَا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد ۔۔۔ وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔