بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌سے‌کرایہ،‌ڈاکٹر‌کی‌فیس‌ادا‌کرنے‌سے‌زکوٰۃ‌کی‌ادائیگی

سوال:۔

ایک مفت ڈسپنسری کھولنے کا اِرادہ ہے، جس میں تمام ادویات، کرایہ اور ڈاکٹر کی تنخواہ زکوٰۃ کی مد سے دی جائے، صرف ڈسپنسری پر لکھ دیا جائے گا کہ یہاں سے وہی لوگ دوائی لے سکتے ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں، کیا صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے؟ ڈسپنسری میں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کیا اس طرح کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

جواب:۔

جو دوائیاں غریب مستحق افراد کو دِی جائیں، ان میں زکوٰۃ کی نیت صحیح ہے۔ کرایہ اور ڈاکٹر کی فیس مقرّر کردی جائے، اور غریبوں کو فیس کی رقم زکوٰۃ میں نقد دے دی جائے، وہ ڈاکٹر کو دے دیں، یہ جائز ہے، واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔