(مصارفِزکوٰۃ)
اِمامِمسجدکوتنخواہزکوٰۃکیرقمسےدیناجائزنہیں
سوال:۔
ہمارے علاقے میں یہ دستور ہے کہ جب ایک عالم کو اپنا پیش اِمام بناتے ہیں تو اس کے لئے کسی قسم کی تنخواہ یا نفقہ مقرّر نہیں کرتے، بلکہ علاقے کی رسم یہ ہے کہ لوگ یعنی محلے والے اس اِمام کو زکوٰۃ دیتے ہیں، پہلے سے یہ طے نہیں ہوتا کہ میں اِمامت کروں گا تو تم مجھ کو زکوٰۃ دینا، اس لئے پیش اِمام کو زکوٰۃ دینا اِمام کو بھی معلوم ہے کہ رسم کی وجہ سے ہے اور قوم کو بھی۔ کیا اس طرح اِمامت کرنے سے قوم کی زکوٰۃ نکلتی ہے یا نہیں؟ اور پیش اِمام کے لئے اس طرح اِمامت کرنے میں کچھ قباحت ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اگرچہ اِمام صاحب سے یہ بات طے نہیں ہوئی کہ ان کو زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہ دی جائے گی، لیکن چونکہ ’’اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ‘‘ کے اُصول کے مطابق کہ جو چیز پہلے سے ذہن میں طے شدہ ہے، وہ ایسی ہے جیسے کہ اس کی شرط لگائی جائے۔ چنانچہ جب اِمام صاحب اور زکوٰۃ دینے والوں کے ذہنوں میں یہ بات پہلے سے ہے کہ اس اِمام کی کوئی تنخواہ مقرّر نہیں کی جائے گی اور اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاتی رہے گی، لہٰذا زکوٰۃ کی رقم سے اِمام کو تنخواہ یا بالفاظ دیگر اس کی اِمامت کی اُجرت دینا جائز نہیں۔(۱) البتہ اگر اس کو اِمامت کی اُجرت الگ دی جاتی ہو، پھر غریب، محتاج ہونے کی وجہ سے اس کو زکوٰۃ دے دی جائے تو صحیح ہے۔(۲)
- (۱) ولَا تحسب أجرۃ العمّال ونفقۃ البقر وکری الأنھار وأجرۃ الحافظ وغیر ذٰلک ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۷، کتاب الزکاۃ، الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار)۔
- (۲) ولو نوی الزکٰوۃ بما یدفع المعلم إلی الخلیفۃ ولم یستأجرہ إن کان الخلیفۃ بحال لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضًا أجزأہ وإلّا فلا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔

