بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

نادار‌کو‌زکوٰۃ‌دینا‌اور‌نیت

سوال:۔

ہمارے جاننے والوں میں ایک سفید پوش سے آدمی ہیں، مگر مالی اعتبار سے بہت کمزور ہیں، ریڑھی لگاتے ہیں، بیوی ٹی بی کی مریض ہے، وہ گھر سے کچھ چنے کباب وغیرہ بنادیتی ہے، اور وہ جاکر فروخت کر آتے ہیں، دو تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ان کا ذاتی مکان ہے، کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ لگ جاتی ہے؟ اور اگر وہ زکوٰۃ لینا پسند نہ کرے تو ان کو بغیر بتائے زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

جواب:۔

ذاتی مکان اور ریڑھی لگانے کے باوجود اگر وہ نادار اور ضرورت مند ہیں تو ان کی زکوٰۃ دینا صحیح ہے۔(۱) زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے اس کو یہ بتانا شرط نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے، تحفہ اور ہدیہ کہہ کر دے دیا جائے اور نیت زکوٰۃ کی کرلی جائے تب بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲)

  1. (۱) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب وان کان صحیحًا مکتسبًا کذا فی الزاھدی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  2. (۲) قولہ فیہ أشار إلٰی أنہ لَا إعتبار للتسمیۃ فلو سماھا ھبۃ أو قرضًا تجزیہ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۶۸)۔