بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

معذور‌لڑکے‌کے‌باپ‌کو‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

ایک سرکاری ملازم گریڈ نمبر۱ کا ایک لڑکا جس کی عمر تقریباً دس سال ہے، دماغی عارضہ میں مبتلا ہے، اور اس کا باپ اس کی کفالت کرتا ہے، اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے، دوا علاج بھی کرتا ہے، اس لڑکے کے دماغی عارضے کی بنا پر ہماری زکوٰۃ کمیٹی نے زکوٰۃ فنڈ سے ماہانہ وظیفہ مقرّر کر رکھا ہے، اور ہر ماہ دیا جارہا ہے۔ مریض لڑکے کا باپ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ کوارٹر میں رہتا ہے، کیا ایسی حالت میں لڑکے کا باپ زکوٰۃ کا مستحق ہے؟

جواب:۔

اگر اس لڑکے کا باپ نادار ہے تو زکوٰۃ کا مستحق ہے۔(۱) بعض عیال دار ایسے ہوتے ہیں کہ وہ صاحبِ نصاب نہیں ہوتے، ان کا روزگار بھی ان کے مصارف کے لئے کافی نہیں ہوتا، ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ إلٰی من یملک نصابًا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹)۔
  2. (۲) وکذا لو کان لہ حوانیت أو دار غلۃ تساوی ثلاثۃ آلَاف درھم وغلتھا لَا تکفی لقوتہ وقوت عیالہ یجوز صرف الزکٰوۃ فی قول محمد رحمہ اللہ تعالٰی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔