بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

مستحق‌کو‌زکوٰۃ‌میں‌مکان‌بناکر‌دینا‌اور‌واپسی‌کی‌توقع‌کرنا

سوال:۔

بحمد اللہ! آج کل زکوٰۃ و عشر کے نفاذ اور سود کے خاتمے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے، اور اس سلسلے میں قوانینِ شرعی کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے۔

بسلسلہ زکوٰۃ و عشر کی تقسیم، مستحقین کے ضمن میں صاحب صدر و وزیرِ خزانہ نے گزشتہ دنوں مختلف موقعوں پر فرمایا تھا کہ زکوٰۃ کی تقسیم کا بہترین طریقِ کار یہ ہے کہ یہ مستحق کی عزّتِ نفس مجروح نہ ہو اور اس کو اس طرح تقسیم کیا جائے کہ مستقبل میں وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق نہ رہے، یعنی قلیل صورت میں نہیں، بلکہ ایسی معاونت ہو کہ مستحق کا مستقبل سنور جائے۔

لہٰذا کیا ایسے افراد میں بھی زکوٰۃ تقسیم کی جاسکتی ہے جو ’’غریب الوطنی‘‘ کی زندگی گزر رہے ہیں؟ یعنی جن کے پاس ابھی تک مستقل رہائش کا کوئی مکان ذاتی نہیں، قطعہ زمین ہے، لیکن ملازمانہ زندگی کی نہایت قلیل آمدنی میں صرف کھانے پہننے کے لئے ہی مشکل سے ہوتا ہو، یا اور کسی وجہ سے نہایت مفلوک الحالی کے سبب ذاتی رہائش مکان اپنے حاصل کردہ قطعہ زمین میں موجودہ دور کی شدید گرانی میں تعمیر کرانے کا عملاً تصوّر بھی نہ کرسکتے ہوں۔

کیا ایسی صورت میں تعمیرِ مکان کے لئے تعمیراتی تخمینے کے مطابق یک مشت رقم زکوٰۃ سے دی جاسکتی ہے تاکہ ایک کنبہ اور خاندان کا سر چھپ جائے؟ علاوہ ازیں کیا زکوٰۃ لینے والا ایسا مستحق، تعمیراتی مراحل مکمل ہونے کے بعد زکوٰۃ کی رقم واپس اقساط میں رضاکارانہ طور پر ادا کرسکتا ہے؟

جواب:۔

ایسے غریب اور نادار لوگ جو نصاب کے بقدر اثاثہ نہ رکھتے ہوں ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے،(۱) اور اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے مکان بنواکر ان کو مکان کا مالک بنادیا جائے، ایسے غریب و ناداروں سے رقم کی واپسی کی توقع رکھنا عبث ہے، اس لئے رضاکارانہ واپسی کا سوال خارج ازبحث ہے۔

  1. (۱) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹)۔