(مصارفِزکوٰۃ)
پگڑیکامکاناورگھرمیںپندرہبیسہزاراشیاءوالےکوبچیکیشادیکےلئےزکوٰۃدینا
سوال:۔
ایک فرد نے زکوٰۃ کی رقم سے بچی کی شادی کے لئے مدد کی درخواست دی ہے۔ اس کے گھر میں پندرہ بیس ہزار روپے کی اشیاء ہیں، اور پگڑی کا مکان بھی ہے، لیکن آج کل کے دور میں شادی کے لئے جو کم از کم ضروریات ہیں وہ شخص انہیں پورا کرنے سے قاصر ہے۔ مثلاً فرنیچر، برتن، کچھ کپڑے، باہر سے باراتیوں کی آمد پر ان کے لئے طعام وقیام کا بندوبست وغیرہ، کیا یہ شخص زکوٰۃ کا مستحق ہے؟
جواب:۔
اِستعمال کی اشیاء کے علاوہ اگر اس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی مالیت کی پونجی ہو، خواہ زیور اور روپے پیسے کی شکل میں، وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں، یہ شخص جو بچی کی شادی کرنا چاہتا ہے کسی سے قرض لے کر خرچ کرلے، بعد میں قرض ادا کرنے کے لئے اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔(۱)
- (۱) المصارف إلخ منھا الفقیر وھو من لہ أدنی شیء وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجۃ فلَا یخرجہ عن الفقر۔ (عالمگیری ج:۱ ص: ۱۸۷، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔

