(مصارفِزکوٰۃ)
کیااُدھاردِیہوئیرقممیںزکوٰۃکینیتہوسکتیہے؟
سوال:۔
کچھ لوگ اُدھار لے کر چلے جاتے ہیں، کافی وقت گزرنے کے بعد ملنے کی اُمید نہیں ہوتی، کیا ہم ان قرض کے پیسوں کی زکوٰۃ کی نیت کرلیں تو زکوٰۃ ادا ہوجائے تو ہم اس کو زکوٰۃ میں نیت کے مطابق کسی غریب کو دے دیں؟
جواب:۔
زکوٰۃ ادا ہوجانے کی شرط یہ ہے کہ رقم دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کی جائے،(۱) یا جب تک فقیر کے پاس وہ رقم بعینہٖ محفوظ ہو اس وقت تک نیت کی جاسکتی ہے، لیکن اگر قرض کی نیت سے رقم دی اور قرض لینے والے نے وہ رقم خرچ کرلی، اب زکوٰۃ کی نیت کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ البتہ یہ صورت ہوسکتی ہے کہ اگر مقروض محتاج ہو تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دے دی جائے، اور دینے کے بعد اپنے قرض میں وصول کرلی جائے۔(۲)
- (۱) وأما شرط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) حیلۃ الجواز أن یعطی مدیونہ الفقیر زکٰوتہ ثم یأخذھا عن دینہ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۱)۔

