بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

مقروض‌کو‌زکوٰۃ‌دے‌کر‌اُس‌سے‌اپنا‌قرض‌واپس‌لینا

سوال:۔

میری خالہ جو کہ امریکا میں مقیم ہیں، انہوں نے مجھے ۷۰۰۰ روپے زکوٰۃ کی مد میں بھیجے کہ کسی مستحق کو اَدا کردوں۔ کچھ عرصہ پہلے کسی خاتون نے کچھ رقم مجھ سے اُدھار لی تھی، لیکن اب وہ اس حالت میں نہیں ہیں کہ میری رقم مجھے واپس کرسکیں۔ آپ مجھے قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ اگر میں اپنے اُدھار کی رقم واپس نہ لوں (جبکہ اُن کی حالت دینے کے قابل نہیں ہے) اور اپنی خالہ کی بھیجی ہوئی رقم میں تبدیل کرلوں تو کیا یہ مناسب رہے گا جبکہ وہ خاتون زکوٰۃ بھی لیتی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ان پر سے قرضے کا بوجھ بھی ختم ہوجائے اور میں بھی اپنے فرض کو ادا کردوں، یعنی خالہ کی امانت کو مستحق تک پہنچادوں۔

جواب:۔

ان کو زکوٰۃ کی رقم دے دیں، اور پھر ان سے اپنے قرض میں وصول کرلیں۔(۱) زکوٰۃ کے ادا ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت سے دی جائے۔(۲) اگر رقم بطور قرض کے دی ہو تو بعد میں زکوٰۃ کی نیت کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ جس خاتون نے آپ سے رقم اُدھار لی ہے، اس کا حل یہ ہے کہ آپ کسی عورت کے ذریعے اس کو زکوٰۃ کی رقم دے دیں، (بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے) جب وہ آپ کے سامنے اس کو زکوٰۃ کی رقم دیدے تو آپ خاتون سے کہیں کہ وہ آپ کا قرض ادا کردے۔

  1. (۱) حیلۃ الجواز ان یعطی المدیون الفقیر خمسۃ زکٰوۃ ثم یأخذھا منہ قضاء عن دینہ۔ (بحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۸)۔
  2. (۲) وشرط أدائھا نیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب ۔۔۔إلخ۔ (بحر الرائق ج:۲ ص:۲۲۶، کتاب الزکاۃ)۔