بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

مقروض‌آدمی‌کو‌زکوٰۃ‌دینا‌جبکہ‌اس‌کے‌بیٹے‌کماتے‌ہوں

سوال:۔

ایک آدمی نے باہر ملک جاکر کسی کے ساتھ شراکت پر کاروبار کیا تھا، یہاں اس نے اپنا مکان فروخت کیا اور زیور فروخت کیا ہے اور لوگوں سے پانچ لاکھ قرض لے کر کاروبار میں لگایا، اور جہاں کاروبار کیا وہ اس کے دُوسرے ساتھی کے نام دُکان تھی، جب کام چل گیا تو اس ساتھی نے کہا کہ تمہارا اس دُکان میں کچھ بھی نہیں ہے، تم پاکستان واپس چلے جاؤ، کوئی لکھا پڑھی تحریرنامہ نہیں تھا، دُکان ساتھی کے اپنے نام تھی، اس آدمی کو واپس پاکستان آنا پڑا، جبکہ اس کے ذمے لاکھوں روپیہ قرضہ ہے، لینے والے دن رات پریشان اور بے عزّت کرتے ہیں، جبکہ ان کا ایک بیٹا حال ہی میں ملازم ہوا ہے اور تین بیٹے معمولی دُکان داری کرتے ہیں، اور وہ خود بھی ایک دُکان پر جو کسی کی ہے کام کرتے ہیں، مکان کرایہ کا ہے، جو تھوڑا بہت لاتے ہیں وہ قرض والے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں، کیا ایسے آدمی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ ان کی دُکان اپنی ذاتی ہے، جس میں بچے کاروبار کرتے ہیں، جو کہ لاکھوں روپے کی فروخت ہوسکتی ہے، اس لئے نہیں کرتے کہ پھر بچوں کے کاروبار کا کیا بنے گا، ایسے خاندان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

جواب:۔

قرض ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔(۱)

  1. (۱) ومنھا الغارم وھو من لزمہ دین ولَا یملک نصابًا فاضلًا عن دینہ۔ (عالمگیری، باب المصارف ج:۱ ص:۱۸۸)۔