(مصارفِزکوٰۃ)
ایضاً
سوال:۔
زید و بکر دو بھائی ہیں، زید نے بکر کو بغرضِ کاروبار مختلف اوقات میں اچھی خاصی رقم بطور قرض دی، ناگزیر وجوہات کی بنا پر کاروبار میں گھاٹا ہوتا چلا گیا، زید کافی عرصے سے اپنی رقم کا طلب گار ہے، لیکن بکر کے لئے رقم کی فراہمی ممکن نظر نہیں آتی، اور کاروبار بھی صرف نام کا ہے، تو کیا اب اس کے لئے زکوٰۃ لے کر قرض کی مد میں ادا کرنا شرعاً مناسب ہے؟ نیز اپنوں میں سے کسی کو اتنی یا تھوڑی سی رقم زکوٰۃ کی نکال کر بکر کو دینی چاہئے تاکہ وہ اپنا قرض چکاسکے تو آیا ان کے لئے بھی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اگر بکر کا اثاثہ اتنا نہیں کہ وہ قرضہ ادا کرسکے تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔(۱)
- (۱) ومنھا الغارم وھو من لزمہ دین ولَا یملک نصابًا فاضلًا عن دینہ أو کان لہ مال علی الناس لَا یمکنہ أخذہ کذا فی التبیین۔ والدفع إلٰی من علیہ الدَّین أولٰی من الدفع إلی الفقیر کذا فی المضمرات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸)۔

