بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

صاحبِ‌نصاب‌مقروض‌پر‌زکوٰۃ‌فرض‌ہے‌یا‌نہیں؟

سوال:۔

اگر صاحبِ نصاب مقروض ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ قرض دار پر کسی صورت میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ قرض ادا نہ کردے، چاہے اس کے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ قرض ادا کرسکتا ہے، مگر نادہند ہے۔

جواب:۔

اُصول یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس مال بھی ہو اور وہ مقروض بھی ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ قرض وضع کرنے کے بعد اس کے پاس نصاب کے برابر مالیت بچتی ہے یا نہیں؟ اگر قرض وضع کرنے کے بعد نصاب کے برابر مالیت بچ رہتی ہو تو اس پر اس بچت کی زکوٰۃ واجب ہے، خواہ وہ قرض ادا کرے یا نہ کرے، اور قرض وضع کرنے کے بعد نصاب کے برابر مالیت نہیں بچتی تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔(۱) اس اُصول کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔

  1. (۱) ومن کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکٰوۃ ۔۔۔ وإن کان مالہ أکثر من دینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا بالفراغۃ عن الحاجۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۶، کتاب الزکاۃ)۔