(مصارفِزکوٰۃ)
کامکاجنہکرنےوالےآدمیکےبچوںاوربیویکوزکوٰۃدینا
سوال:۔
ایک آدمی ہے، وہ جان بوجھ کر کام نہیں کرتا، گھر پر پڑا رہتا ہے، جبکہ اس کے تین بچے ایک بیوی ہے، اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہے، اس کے بیوی بچوں کا کیا قصور ہے؟ مکان کرایہ کا ہے، کیا ایسے تنگ دست بچوں کو، بیوی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ یہ بھی ہے کہ جب ہم اس کے بیوی بچوں کو رقم دیں گے تو وہ بھی وہیں سے کھائے گا جبکہ صحت مند ہونے کے باوجود بے کار پھرتا ہے، بیوی بچے بچارے تنگی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس صورت میں آپ واضح فرمائیں کہ زکوٰۃ کی رقم سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے؟ بچوں کا اس میں کیا قصور ہے؟
جواب:۔
اس کی بیوی بچوں کو زکوٰۃ دے دی جائے۔(۱)
- (۱) (منھا الفقیر) وھو من لہ أدنی شیء وھو ما دون النصاب۔ (عالمگیری، باب المصارف ج:۱ ص:۱۸۷)

