(مصارفِزکوٰۃ)
غیرمستحقکوزکوٰۃکیادائیگی
سوال:۔
صدقہ خیرات یا زکوٰۃ کسی شخص کو مستحق سمجھ کر دی جائے، حقیقتاً وہ مستحق نہ ہو، بلکہ اپنے آپ کو مسکین ظاہر کرتا ہو، جیسے آج کل کے اکثر گداگر، تو صدقہ، خیرات یا زکوٰۃ دینے والا ثواب پائے گا؟
جواب:۔
زکوٰۃ ادا کرتے وقت اگر گمان غالب تھا کہ یہ شخص زکوٰۃ کا مستحق ہے، تو زکوٰۃ ادا ہوگئی،(۱) مگر بھیک منگوں کو نہیں دینا چاہئے۔(۲)
- (۱) أما لو تحری فدفع لمن ظنہ غیر مصرف أو شک ولم یتحر لم یجز حتّی یظھر أنہ مصرف فیجزیہ فی الصحیح خلافًا لمن ظن عدمہ وتمامہ فی النھر۔ وفیہ: واعلم أن المدفوع إلیہ لو کان جالسًا فی صف الفقراء یصنع صنعھم أو کان علیہ زیھم أو سألہ فأعطاہ کانت ھٰذہ الأسباب بمنزلۃ التحری ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۳۵۲، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔
- (۲) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل أو بالقوۃ کالصحیح المکتسب ویأثم معطیہ إن علم بحالہ لِاعانتہ علی المحرّم۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۴، ۳۵۵، طبع ایچ ایم سعید)۔

