(مصارفِزکوٰۃ)
شوہرکےبھائیوںاوربھتیجوںکوزکوٰۃدینا
سوال:۔
میرے شوہر کے چار بھائی ایک بہن ہے، جو سابقہ خاوند سے طلاق لینے کے بعد دُوسری جگہ شادی شدہ ہے، مگر سابقہ خاوند سے تین بچے ہیں، جو میرے دُوسرے دیور کے ہاں رہتے ہیں، اور زیرِ تعلیم ہیں، اتنی مہنگائی میں جہاں گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا وہاں ان کو خرچہ دینا بھی ایک مسئلہ ہے، علاوہ ازیں میرے بڑے دیور کا انتقال ہوچکا ہے، اور ان کے بچے بھی زیرِ تعلیم ہیں۔ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ہم ان بچوں کی تعلیم یا شادی بیاہ پر زکوٰۃ کی مد میں خرچ کرسکتے ہیں اور ہماری زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، لیکن ان بچوں کو علم نہ ہو کہ زکوٰۃ ہے؟
جواب:۔
آپ اپنے شوہر کے بھانجوں اور بھتیجوں کو زکوٰۃ دے سکتی ہیں، آپ کے شوہر بھی دے سکتے ہیں،(۱) زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ان کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، خود نیت کرلینا کافی ہے، ان کو خواہ ہدیے، تحفے کے نام سے دی جائے تب بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲)
- (۱) ولَا إلٰی من بینھما ولَاد ۔۔۔إلخ۔ وفی الشرح: وقید بالولَاد لجوازہ لبقیۃ الأقارب کالْإخوۃ والأعمام ولأخوال الفقراء بل ھم أولٰی لأنہ صلۃ وصدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۴۶)۔ والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ثم إلٰی أولَادھم ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔
- (۲) دفع الزکٰوۃ إلٰی صبیان أقاربہ برسم عید أو إلٰی مبشر أو مھدی الباکورۃ جاز۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۶، قبیل باب صدقۃ الفطر)۔

