(مصارفِزکوٰۃ)
برسرِروزگاربیوہکوزکوٰۃدینا
سوال:۔
ہمارے علاقے میں ایک بیوہ عورت ہے، جو محکمۂ تعلیم حکومتِ پاکستان میں ملازم ہے، تنخواہ ماہانہ پانچ سو روپے ہے، ان کا ایک جوان لڑکا بھی سرکاری ملازم ہے، دونوں ایک ساتھ حکومت کے فراہم کردہ سرکاری کوارٹر میں رہتے ہیں، ہمارے علاقے کی زکوٰۃ کمیٹی نے اس بیوہ عورت کے لئے زکوٰۃ فنڈ سے پچاس روپے ماہانہ وظیفہ مقرّر کیا ہے اور ہر ماہ ادا کیا جاتا ہے، کیا بیوہ ہونے کی وجہ سے جبکہ سرکاری ملازمہ ہو تو زکوٰۃ کی مستحق ہے؟
جواب:۔
اگر وہ مقروض نہیں برسرِروزگار ہے، تو اس کو زکوٰۃ نہیں لینی چاہئے، تاہم اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو اس کو دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۱)
- (۱) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من ذٰلک وإن کان صحیحا مکتسبا لأنہ فقیر والفقراء ھم المصارف، ولأن حقیقۃ الحاجۃ لَا یوقف علیھا فادیر الحکم علٰی دلیلھا وھو فقد النصاب۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۰۷، کتاب الزکاۃ، باب المصرف)۔

