بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

مفلوک‌الحال‌بیوہ‌کو‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

ہمارے محلے میں ایک بیوہ عورت رہتی ہے، اس کی ایک نوجوان بیٹی بھی ہے، جو کہ مقامی کالج میں پڑھتی ہے، اس بیوہ عورت کا ایک بھائی ہے جو اناج کی دلالی کرتا ہے، اور مہینے کے دو ہزار روپے کماتا ہے، لیکن اپنی بیوہ بہن اور ماں کو کچھ بھی نہیں دیتا، اس بیوہ عورت کی ماں بالکل ضعیف اور بیمار ہے، ان سب کا خرچ عورت کا بھتیجا اُٹھاتا ہے، اور اس بھتیجے کی بھی شادی ہوگئی ہے، اور اس کی ایک بچی بھی ہے، اب وہ بھتیجا یہ کہتا ہے کہ میں سب کا خرچ نہیں اُٹھا سکتا، اب وہ بیوہ عورت بالکل اکیلی ہوگئی ہے، اور اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں، تو کیا اس صورتِ حال میں اس کا زکوٰۃ لینا جائز ہے؟ اور کیا ہم سب برادری والے مل کر بیوہ عورت کے بھائی کو روپے نہ دینے پر اس سے زبردستی کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

بھائی کو اگر مقدور ہے تو اسے چاہئے کہ اپنی بہن کے اخراجات برداشت کرے، اگر وہ نہیں کرتا یا استطاعت نہیں رکھتا اور بیوہ کے پاس بھی نصاب کی مقدار سونا چاندی یا روپیہ پیسہ نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ وہ نادار بھی ہے اور بے سہارا بھی، اس صورت میں اس کو زکوٰۃ و صدقات دینا ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔