(مصارفِزکوٰۃ)
ضرورتمندلیکنصاحبِنصاببیوہکیزکوٰۃسےامدادکیسے؟
سوال:۔
ایک ضرورت مند خاتون جو اَب بیوہ ہیں، ان کے شوہر کا ایک ہفتہ قبل انتقال ہوگیا، ان خاتون کا کوئی ذریعہ معاش نہیں، مرحوم کی ایک بچی کی عمر ۹ سال ہے، کرایہ کے مکان میں رہتی ہیں، ماہانہ کرایہ ۵۰۰ روپے ہے، ان بیوہ خاتون کے پاس ایک سیٹ سونے کا شادی کے وقت کا ہے، وزن تقریباً دس تولے ہے، موجود ہے، بیوہ اس کو بیٹی کے لئے مخصوص کرنا چاہتی ہیں، یعنی اس زیور کی ملکیت ۹سال کی بچی کے نام کرنا چاہتی ہیں، ان حالات میں کیا مذکورہ بیوہ کو شرع مستحقِ زکوٰۃ قرار دیتی ہے؟ یعنی ان کی ضرورت بمدِ زکوٰۃ ماہانہ وظیفہ کی شکل میں پوری کی جاسکتی ہے؟
جواب:۔
اگر سونے کا سیٹ اپنی لڑکی کے نام ہبہ کردیا تو بیوہ مذکورہ زکوٰۃ کی مستحق ہے، اور اس کی امداد زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے۔(۱)
- (۱) قولہ ھو الفقیر والمسکین ۔۔۔ أی المصرف الفقیر والمسکین ۔۔۔ والأولٰی أن یفسر الفقیر بمن لہ ما دون النصاب ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب الزکاۃ)۔

